ابنا: اطلاعات کے مطابق امریکہ کے سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان نے کچھ ایسے اقدامات کیے ہیں جن کے باعث پاکستان کو دی جانے والی امداد کا کچھ حصہ روک دیا گيا ہے۔ ان ذرائع نے کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات انتہائی پیچیدہ مسئلہ ہے اور جب تک ہم مشکلات پر قابو نہیں پا لیتے امداد کا کچھ حصہ رکا رہے گا۔
اس سے قبل امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے لکھا تھا کہ پاکستان کی جانب سے امریکی فوجی ٹرینرز کو نکالنے اور شمسی ایئربیس سے سی آئی اے ڈرون آپریشن بند کیے جانے کی دھمکیوں سے امریکہ ناراض ہے اور اوباما حکومت پاکستان کی اسی کروڑ ڈالر کی فوجی امداد روک سکتی ہے۔
دوسری جانب پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس نے امریکی امداد روکے جانے پر تبصرہ کرنے سے گریز کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں سرکاری طور پر اس بارے میں مطلع نہیں کیا گيا۔ جبکہ پاکستانی وزارت خارجہ کی ترجمان تہمینہ جنجوعہ نے کہا ہے کہ امریکہ نے اس سلسلے میں نہ تو سفارتی سطح پر اور نہ ہی فوجی سطح پر پاکستان کو باضابطہ طور پر آگاہ کیا ہے تاہم اس معاملے پر واشنگٹن میں اپنے سفارت خانے سے ہم رابطے میں ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/169